بنگلورو3فروری (ایس او نیوز) سپریم کورٹ کے جج جسٹس ایس عبدالنذیر نے آج کہا کہ کسی بھی جمہوری نظام کو متوازن طریقہ سے چلنے کیلئے اس میں شفافیت ضروری ہے۔ جمہوری طرز نظام میں حکومت کو سرکاری معاملات خفیہ رکھنے کاموقع نہیں ۔ حق اطلاعات قانون کے تحت شہریوں کو مختلف سرکاری اطلاعات حاصل کرنے کاحق ہے ۔
یہاں ودھان سودھا کے کانفرنس ہال میں کرناٹک انفرمیشن کمیشن کے زیراہتمام ’’حق اطلاع قانو ن کے تحت اطلاعات فراہم کرنالازمی‘‘ پروگرام کاافتتاح کرنے کے بعد خطاب کرتے ہوئے جسٹس عبدالنذیر نے کہا کہ حق اطلاعات کے ذریعہ شہریوں کو اطلاعات فراہم کرنے کویقینی بنانااطلاعات کمیشن کی ذمہ داری ہے۔ سرکاری محکموں میں بدعنوانی کی روک تھام کے لئے کمیشن کو متعلقہ حکام کو سفارش کرنی چاہئے ۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ حق اطلاعات کے تحت عوام سے موصول ہونے والی عرضیوں میں دن بدن اضافہ ہورہا ہے اس لئے ان عرضیوں پر اطلاع فراہم کرنے میں تاخیر نہیں ہونی چاہئے۔
انہوں نے بتایا کہ آج کے سماج میں بیداری آچکی ہے ۔ حق اطلاع قانون کے تحت ہر سطح پر اطلاع طلب کی جارہی ہے۔ اس نظام میں کوئی بھی سرکاری انفارمیشن خفیہ رکھنے کی اجازت نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ تمام سرکاری محکموں کے لئے حق اطلاعات قانون لازمی ہے اس کے باوجود اس قانون کو ہلکا لیا جارہا ہے ۔ اس تعلق سے عوام میں مزید بیداری پیدا کرنے کی ضرورت ہے ۔ ہر شہری کو مختلف سرکاری اسکیموں کا علم ہونا چاہئے۔ اس تقریب میں حال ہی میں سپریم کورٹ کے جج کی حیثیت سے عہدہ کا جائزہ لینے والے کرناٹک ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس دنیش مہیشوری ، ہائی کورٹ کے عبوری چیف جسٹس ایل نارائن سوامی ، ہائی کورٹ کے جج دکشت کرشنا شری پد چیف انفارمیشن کمشنر ایل ۔ کرشنا سوامی ، اسٹامپ اینڈ رجسٹریشن ڈیویژن کے انسپکٹر جنرل ڈاکٹر کے وی ترلوک چندرا نے بھی شرکت کی۔